Sharyat mein nazre bad ka kya ilaaj hai? | شریعت میں نظر بد کا کیا علاج ہے؟
اگر کسی کو نظر لگ جائے تو شریعت مطہرہ میں اس کا حل و علاج کیا ہے؟ از مفتی محمد اشتیاق القادری دامت برکاتہم العالیہ
Sharyat mein nazre bad ka kya ilaaj hai? | شریعت میں نظر بد کا کیا علاج ہے؟
شریعت میں نظر بد کا کیا علاج ہے؟ حضور حجۃ العلم کی بارگاہ عالی ذی وقار میں ایک مسئلہ عرض ہے کہ : اگر کسی کو نظر لگ جائے تو شریعت مطہرہ میں اس کا حل و علاج کیا ہے ؟ عوام میں کچھ اس طرح بھی مشہور ہے کہ سوکھی لال سات مرچوں پر قرآن مجید کی مخصوص سورتیں پڑھ کر دم کرتے ہیں پھر ان کو جلا دیتے ہیں اب اگر مرچوں کے جلنے کے بعد ان کی دھانس آتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نظر نہیں ہے۔ اور اگر دھانس نہیں آتی ہے تو اس کا مطلب ہے نظر تو تھی مگر اب اتر گئی اسی طرح کے اور بھی کئی ٹوٹکے وغیرہ کیے جاتے ہیں کیا یہ شرعا جائز ہیں؟ بینوا و توجروا المستفتی : آل نبی رضوی اسحاقی پرسو پورہ رام پور یو پی۔ بــســم الــلــه الـــرحــــمــــن الــــرحــــــــــــــيـــــــــــــــــــم۔ الــــجــــــواب بـــعــون الـلـه الــعـليم الـوهـاب وهـو الـمـوفـق لــلـــحـــق و الـــــــصـــــــــواب نظر لگنا حق اور ثابت ہے۔ بعض لوگ اس کو وھم پرستی اور محض خیال کہتے ہیں جو یقیناً غلط و باطل گمان ہے۔ حضرت ابوهریرہ رضي الله تعالي عنه فرماتے ہیں کہ رسول الله صلى الله تعالي عليه وسلم نے ارشاد فرمایا العين حق. (صحيح بخاري ،…